نئی دہلی،3؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)تمام قیاس آرائیوں کے بعدعام آدمی پارٹی نے آخر کارراجیہ سبھاکے لئے اپنے تینوں امیدواروں کااعلان کردیا ہے۔کمار وشواس اور آشوتوش جیسے رہنماؤں کودرکنارکرکے پارٹی نے سنجھے سنگھ، سشیل گپتا اور نارائن داس گپتا کو ٹکٹ دیا ہے۔ان میں سے تاجر سشیل گپتا پہلے کانگریس سے جڑے ہوئے تھے۔کانگریس لیڈرماکن نے سشیل گپتا کے بارے میں ایک ٹویٹ کیا ہے جو بہت کچھ کہتاہے۔سشیل گپتا کا نام سامنے آنام کے بعد ماکن نے کہاکہ 28نومبر، 2017کو گپتا میرے پاس اپنا استعفی لے کرآئے،جب میں نے ان سے پوچھا کیوں ؟تو انہوں نے کہا کہ مجھے راجیہ سبھا بھیجنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔اس پر ماکن نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے، پھر گپتا نے کہا کہ سر، آپ نہیں جانتے ہیں،اجے ماکن نے سشیل گپتا کا استعفیٰ بھی ٹوئٹ کیاہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ چالیس دنوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے، ویسے بھی سشیل گپتاچیریٹی کے ؒ ٰلیے جانے جاتے ہیں۔غور طلب ہے کہ عام آدمی پارٹی سے جڑنے سے پہلے سشیل گپتا کانگریس کے ساتھ تھے۔2015میں انہوں نے عام آدمی پارٹی کے خلاف الیکشن بھی لڑاتھا۔اس کے علاوہ سشیل گپتا کا ایک پوسٹر بھی بہت مشہورہوا،جس پوسٹر میں انہوں نے عام آدمی پارٹی کے خلاف ایک دستخطی مہم شروع کی تھی۔دراصل ایک رپورٹ میں آیاتھا کہ کجریوال حکومت نے تشہیر کے لئے کئی کروڑ روپے خرچ کئے ہیں،جس کے خلاف سشیل گپت کی قیادت مہم چلی تھی۔پوسٹر میں لکھا تھا کہ کجریوال نے 854کروڑ روپر عوام کی کمائی کجریوال نے تشہیرمیں لٹائی، سشیل گپتا نے اسے یوم وصولی قرار دیا تھا۔